Wednesday, 28 June 2017

"Main Dewana Hun Marey Pas Mahshar Main Khara Rahna"A Beautiful Urdu Ghazal By Allama Semab Akbar Abadi



میں دیوانہ ہوں میرے پاس محشر میں کھڑے رہنا
نہ جانے میں کہوں کیا اور کیا پوچھے خدا مجھ سے

تو کیا اپنی سزائے قتل پر خود دستخط کر دوں؟
وہ لکھواتے ہیں کیوں جرمِ وفا کا فیصلہ مجھ سے

غلط تھی یہ مَثَل سب دبنے والے کو دباتے ہیں
دبا میں خاک میں، تو خاک کو دبنا پڑا مجھ سے

یہ میری حیرتِ دیدار کا انجام ہونا ہے
نہ تم جلوہ دکھاؤ گے نہ دیکھا جائے گا مجھ سے

بتا او میرے غارت گر، اب ان کو کیا بتاؤں میں؟
مسافر پوچھتے ہیں تیری منزل کا پتا مجھ سے

سنے کس کس کی وہ سیماب کس کس کو تسلی دے
پڑے رہتے ہیں لاکھوں اُس کے در پر بے نوا مجھ سے

No comments:

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...