نامہ
گیا کوئی نہ کوئی نامہ بر گیا
تیری
خبر نہ آئی، زمانہ گزر گیا
ہنستا
ہوں یوں کہ ہجر کی راتیں گزر گئیں،
روتا
ہوں یوں کہ لطف دعائےسحر گیا
اب
مجھ کو ہے قرار تو سب کو قرار ہے،
دل
کیا ٹھہر گیا کہ زمانہ گزر گیا
یا
رب نہیں میں واقف روداد زندگی
اتنا
ہی یاد ہے کہ جیا اور مر گیا
No comments:
Post a Comment