Showing posts with label Barish. Show all posts
Showing posts with label Barish. Show all posts

Sunday, 16 July 2017

yuon chahay khazan khari ho dil main A beautifull ghazal by parveen shakir,

 یُوں چاھے خزاں کھڑی ھو دل میں
اِک آس کی پنکھڑی ھو دل میں

کیا ناخنِ مہر و مہ سے کٹتی
جس شب کی گرہ پڑی ھو دل میں

وہ سامنے ھو تو معرکہ اور
جنگ اُس سے الگ لڑی ھو دل میں

اُس نام پہ مُسکرائے جانا
اشکوں کی مگر جھڑی ھو دل میں

مصلوُب نہیں مگر یہ احساس
اِک میخ ابھی گڑی ھو دل میں


 پروین شاکر

Aaj barish ki sham ha kuch udasi ki sham ha A beautifull urdu barish ghazal

آج بارش کی شام ہے
کچھ اداسی کی شام ہے۔

مسیحا بن کر آجاو ذرا
تنہائ بھری شام ہے۔

دکھ کا چارا کر جاو ذرا
انتظار بھری شام ہے۔

تمھیں تو میرا حال معلوم ہے
دل بے قرار آج کی شام ہے ۔

تیرے ملن کی تمنا تو پرانی ہے
عروج تمنا آج کی شام ہے۔

آجاو تو اچھا ہے
ورنہ پھر گزرنے والی آج کی شام ہے۔

مقدر میں ملن ہوا ہاشم،تو ٹھیک

ورنہ یہ تو معمول کی شام ہے ۔

barish ki barsti bundoon nay jub dastak di darwazay par A beautifull urdu ghazal

بارش کی برستی بوندوں نے
جب دستک دی دروازے پر

محسوس ہوا تم آئے ہو
 انداز تمھارے جیسا تھا

ہوا کے ہلکے جھونکے کی
جب آہٹ پائی کھڑکی پر

محسوس ہوا تم گزرے ہو
 احساس تمھارے جیسا تھا

میں نے گرتی بوندوں کو
روکنا چاہا ہاتھوں پر

ایک سرد سا پھر احساس ہوا
 وہ لمس تمھارے جیسا تھا

تنہا میں چلا پھر بارش میں
تب ایک جھونکے نے ساتھ دیا

میں سمجھا تم ہو ساتھ میرے
 وہ ساتھ تمھارے جیسا تھا

پھر رک گئ وہ بارش بھی
رہی نہ باقی آھٹ بھی

میں سمجھا مجھے تم چھوڑ گئے

 انداز تمھارے جیسا تھا

Thak Gaya Hun Main Akala Sa Sitarah Tara " A Beautiful UrdU Ghazal By iftkhar bukhari

تھک گیا ہوں میں اکیلا سا ستارہ تیرا
دور کتنا ہے ابھی رات، کنارا تیرا

ایک بارش ترے احسان کی کافی ہے مجھے
میں جو پھرتا ہوں سمیٹے ہوئے گارا تیرا

 آئنہ ٹوٹے گا اک روز یہ کہہ کر مجھ سے
 اب نہ ہوگا کبھی دیدار دوبارہ تیرا

رات بھر جاگتی رہتی ہے مری بے خوابی
 لوٹ کر آیا نہیں خواب نظارہ تیرا

 دور ہلتے ہیں کسی سایہء امید کے ہاتھ
جانے کس دشت میں مارے گا اشارہ تیرا


افتخار بخاری

Kamal Zabt Ka Ya Aakhri Hunar Bhi Gaya " A Beautiful Urdu Ghazal By Sauod Usmani,

کمال ِضبط کا یہ آخری ہنر بھی گیا
میں آج ٹوٹ کے رویا اور اس کے گھر بھی گیا

 یہ دکھ ہے اس کا کوئی ایک ڈھب تو ہوتا نہیں
 ابھی امڈ ہی رہا تھا کہ جی ٹھہر بھی گیا

عجیب غم تھا قبیلے کے حرف کار کا غم
 کہ بے ثمر بھی گیا لفظ ، بے اثر بھی گیا

 یہ ایک پل ، یہ مرا دل ، یہ زرد رنگ کا پھول
ابھی کھلا بھی نہیں تھا ، ابھی بکھر بھی گیا

یہ دشت زاد بگولا ، یہ رقص خو درویش
 اگر میں ٹھیر گیا تو یہ ہم سفر بھی گیا

اگرچہ خلوت ِ جاں سی اماں نہ تھی
 لیکن یہ میرا زخم طلب دل اِدھر اُدھر بھی گیا

سعود عشق بھی لاحق تھا اور زندگی بھی
سو مندمل نہ ہوا اور زخم بھر بھی گیا


 (سعود عثمانی ) "بارش "

piyas dil ki barha gai barish A beautiful urdu ghazal by Dr. Ahmad Nadim Rafi

رگ و پے میں سما گئی بارش
 پیاس دل کی بڑھا گئی بارش

 طاق _ نسیاں کی خامشی میں پھر
 جل ترنگ اک بجا گئی بارش !

 دیکھ نیرنگی _ تمنا ، دوست
 دھوپ چاہی تھی ، آ گئی بارش !

 کیا خبر ابر کے سفیروں کو
کتنی شمعیں بجھا گئی بارش !

 تو کہیں بھیگتا نہ ہو تنہا
ایک دھڑکا لگا گئی بارش

 بند کھڑکی کے صاف شیشوں پر
عکس تیرا بنا گئی بارش

 آج مٹھی جو کھول کر دیکھا
 نام تیرا مٹا گئی بارش

 وقت _ رخصت تجھے نہیں معلوم
 کتنے آنسو چھپا گئی بارش

 قطرہ قطرہ گری مگر پھر بھی
 زخم گہرا لگا گئی بارش

 چشم _گریاں سے چشم_حیراں تک
 اک دھنک سی بچھا گئی بارش

 گنگنانے لگیں تری یادیں
 تار غم کے ہلا گئی بارش !

کھل گئیں آشنایاں کیا کیا
 گرد _ ماضی ہٹا گئی بارش

 تیرے بے لاگ بھیگ جانے پر
 اپنا مشکیزہ ڈھا گئی بارش


 ڈاکٹر احمد ندیم رفیع

Mujh ko khonay wali ha dunya ronay wali ha barish honay wali ha A beautiful urdu ghazal by Usama Ameer

مجھ کو کھونے والی ہے.
دنیا رونے والی ہے.

جلدی چھتری لے کر آ.
بارش ہونے والی ہے.

 تیری صورت صدیوں سے.
رونے دھونے والی ہے.

 اب تو اجا گھر اجا.
 رات بھی سونے والی ہے.

کھیل میں رخصت کردی ہے.
 گڑیا رونے والی ہے.

 آنکھ تمہاری صحرا سی.
رات بھگونے والی ہے.

میری ذات کا محور وہ.
 لڑکی کونے والی ہے.


اسامہ امیر

Aankhain ho gai pur nam barishaoon k mosam main A beautiful urdu ghazal titel udas barish

آنکھ ہو گئی پرنم بارشوں کے موسم میں
 کس قدر ہیں تنہا ہم بارشوں کے موسم میں


 درد بھی ہے ہلکا سا ان اداس لمحوں میں
 چین بھی ہے کچھ مدہم بارشوں کے موسم میں


 بہہ گئے بوندوں میں آس کے گھروندے بھی
 پھر ملا نیا اک غم بارشوں کے موسم میں


سرد سرد راتوں کی خنکیوں میں لہجے بھی
منجمد ہوئے پیہم بارشوں کے موسم میں


 بخت سو گئے لیکن جاگتی رہیں آنکھیں
 نیند یوں ہوئی کم کم بارشوں کے موسم میں


 داستان ہجراں میں بے کلی کے زخموں پر
وصل پھر بنے مرہم بارشوں کے موسم میں


 یوں قبا ہے بھیگی کہ جسم و جاں سلگتے ہیں
 لوٹ آؤ نا ہمدم بارشوں کے موسم میں


 چپ لب مگر شیریں گنگنا رہا ہے

 دل کیا عجیب ہے سرگم بارشوں کے موسم میں

kabhi barish kabhi Aankhoon main duwaan hota ha A beautiful urdu ghazal

کبھی بارش کبھی آنکھوں میں دہواں ہوتا تھا
 اس طرح ہجر خیالوں میں رواں ہوتا تھا                 
    
کوئی دیوار نہ دوڑی مرے آگے پیچھے
میرے کہنے پہ کبھی دشت رواں ہوتا تھا

 تیری آنکھوں میں کوئی عکس نہ ابھرا
 جس کا اک جزیرہ مرے خوابوں کا جہاں ہوتا تھا    
       
ایک بوڑھے سے شجر پر کہیں لکھا ہوگا
نام تیرا جو کبھی وردِ زباں ہوتا تھا

 تو نہیں ہوتا تھا اطراف میں گرچہ میرے
تیرے ہونے کا مگر مجھ کو گماں ہوتا تھا       
                        
کشتیاں چھیننے والا تو ابھی زندہ ہے
   وہ کوئی اور ہے جو عبرت کا نشاں ہوتا تھا

ایسی بستی سے گزرنا بھی پڑا ہے ہم کو
جس کے ہر کوچے میں غوغائے سگاں ہوتا تھا   

 ہر طرف واعظ و مفتی کا اندیشہ اب ہے
ہائے یہ شہر کبھی شہرِ بتاں ہوتا تھا

جس جگہ تیری حویلی ہے کھڑی، شہزادی
میرے پرکھوں کا یہاں ایک مکاں ہوتا تھا    
                   
آج دیکھا سرِ بازار پھٹے حالوں اسے تیرا شاعر
  جو کبھی شوخ بیاں ہوتا تھا

خاک اڑتی ہے خموشی سے جہاں اب میری
ایک شعلہ سا یہاں رقص کناں ہوتا تھا

   لوگ لیتے تھے مرے ہاتھ کا بوسہ

   اشعر میرا کردار کہانی میں بیاں ہوتا تھا

firaq yar ki barish malal ka mosam A beautiful urdu ghazal by mohsain naqvi

فراق یار کی بارش ملال کا موسم
 ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم

 وہ اک دعا جو میری نامراد لوٹ آئی
 زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم

 بہت دنوں سے میرے ذہن کے دریچوں میں
 ٹھہر گیا ہے تمہارے خیال کا موسم

 جو بے یقیں ہوں بہاریں اجڑ بھی سکتی ہیں
 تو آ کے دیکھ لے میرے زوال کا موسم

 محبتیں بھی تیری دھوپ چھاؤں جیسی ہیں
 کبھی یہ ہجر کبھی یہ وصال کا موسم

 کوئی ملا ہی نہیں جس کو سونپتے”محسن
” ہم اپنے خواب کی خوشبو، خیال کا موسم


محسن نقوی

kal halki halki barish thi kal taiz hawa ka raqas bhi tha A beautiful urdu ghazal

کل ہلکی ہلکی بارش تھی
 کل تیز ہوا کا رقص بھی تھا

 کل پھول بھی نکھرے نکھرے تھے
کل ان پہ آپ کا عکس بھی تھا

 کل بادل کالے گہرے تھے
 کل چاند پہ لاکھوں پہرے تھے

 کچھ ٹکڑے آپ کی یاد کے
 بڑی دیر سے دل میں ٹھرے تھے

کل یادیں الجھی الجھی تھیں
 اور کل تک یہ نہ سلجھی تھیں

 کل یاد بہت تم آئے تھے

 کل یاد بہت تم آئے تھے

bighnay ka ek musalsal silsla barish main ha A beautiful urdu ghazal

بھیگنے کا اک مسلسل سلسلہ بارش میں ہے
 کیا کسی موسم میں ہوگا جو مزا بارش میں ہے

یُوں کُھلی سڑکوں پر مت پھرنا کہ موسم غیر ہے
اک تو موسم غیر، پھر ٹھنڈی ہوا بارش میں ہے

آسماں کا عکس پانی میں اُترتے ہی کُھلا
آئینے کے سامنے،اک آئینہ بارش میں ہے

 ایسا منظر بس اِسی موسم میں دیکھا جائے ہے
 اک کنارا دھوپ میں اور دوسرا بارش میں ہے

 سانس لیتے پھل ، لچکتی ٹہنیاں ، ہنستے گلاب
 ایسا منظر بھی سرِ شاخِ حیا ، بارش میں ہے

 معجزے سے کم نہیں، یہ زندگی اپنی متین

جیسے تاریکی میں اک جلتا دِیا، بارش میں ہے

Koi suhani sham ho tara mata sath ho A beautiful urdu ghazal

برستی بارش میں دل کی آواز ...

کوئی سہانی شام ہو ،
تیرا میرا ساتھ ہو

 میرے ان ہاتھوں میں
 بس تیرا ہاتھ ہو

 کالے گہرے بادل چھائیں ،
کڑکے بجلی زوروں سے

 سرد ہوا ہو ، رم جھم ہو
، پیار کی برسات ہو

 بھیگیں دونوں مل کر جاناں ،
ایسے سہانے موسم میں

 تیری میری چاہت کی ،
 جو پہلی ملاقات ہو

 مٹ جائیں احساس سبھی ،
 گر آجاؤ تم بانہوں میں

 ہم کو خبر ہی نہ ہو جاناں ،
دن ہو یا کہ رات ہو

 میرے سوالوں جوابوں میں،
اور خیالوں حجابوں میں

 کوئی ہے تو بس اک تم ہو ،
 بس تمہاری ہی ذات ہو

 تم کو چاہا تم کو سوچا ،
 مانگا ہے رب سے بهی تجھے

 شامی تم جو مجھے مل جاؤ

، تو یارا کیا بات ہو ؟

kbhi sihra tara lahja kabhi barish tari batain '' A Beautiful ghazal by nina adil

 کبھی صحر ا تر ا لہجہ ، کبھی بارش تری باتیں
 کبھی ٹھنڈا ترا لہجہ ، کبھی آتش تری باتیں

 یہی شیرینی و تلخی طبیعت سیر کرتی ہے
 کبھی کڑوا ترا لہجہ ، کبھی کشمش تری باتیں

 نہیں کوئی طبیبِ دل ستم مائل ترے جیسا
کبھی پھایا ترا لہجہ ، کبھی سوزش تری باتیں

 اندھیرا ہے اگر ڈوبے اگر ابھرے تو سورج ہے
 کبھی کورا ترا لہجہ ، کبھی دانش تری باتیں

بھڑکتی بجھتی ہے پل پل چراغِ زندگی کی لَو
 کبھی رسیا ترا لہجہ ، کبھی رنجش تری باتیں

 متاعِ زیست ہے نیناؔ یہی غربت یہی دولت
کبھی کاسہ ترا لہجہ ، کبھی بخشش تری باتیں


 نیناؔعادل

barish hovi to phool k tan chak ho gay A Beautiful urdu ghazal by parveen shakir

بارش ہُوئی تو پھُولوں کے تن چاک ہو گئے
 موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے

 بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
 کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے

 جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سُورج کی شہ پہ تِنکے بھی بے باک ہو گئے

 بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رُخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے

 سُورج دماغ لوگ بھی ابلاغِ فکر میں
 زُلفِ شبِ فراق کے پیچاک ہو گئے

 جب بھی غریبِ شہر سے کُچھ گفتگو ہُوئی
 لہجے ہَوائے شام کے نمناک ہو گئے


(پروین شاکر)

Nili barush A Beautiful urdu nazam by Sarwat Hussain

نیلی بارش

نیلی بارش تیری آنکھوں میں
جیسے یہ منظر

پہلے بھی دیکھا ہو میں نے
آئینے کے دل میں یا پھر اس دروازے میں

جو کالی مٹّی کے پاتال میں کھلتا ہے
کالی مٹی کا پاتال ہمارا بچپن

بچپن اور جنّت کی چڑیاں
نیلی بارش میں سب کچھ بھیگ رہا ہے

بھیگے رنگوں سے تصویر بناؤں
تیرے بدن پر

میں نیلی بارش، تو کالی مٹی
تیرے ہونٹ دہک اُٹھے ہیں

جیسے شعلے
نیلی بارش کے آئینے میں جل اُٹھے ہوں

٭٭٭


ثروت حسین

Shayari Bhi Barish Hai Jub Barasnay Lagti ha A Beautifull urdu Barish Poetry By Ghazal naaz Ghazal

شاعری بھی بارش ہے 

جب برسنے لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔

سوچ کی زمینوں کو رنگ بخش دیتی ہے 

لفظ کو معانی کے ڈھنگ بخش دیتی ہے !!

نِت نئے خیالوں کی کونپلیں نکلتی ہیں،

اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ روانی پر یوں بہار آتی ہے،

جیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھوس پربت سے، گنگناتی وادی میں ۔۔۔۔۔۔

آبشار آتی ہے !!

شاعری بھی بارش ہے،

اُن دلوں کی دھرتی پر ۔۔۔۔۔۔۔۔

غم کی آگ نے جِن کو ۔۔۔۔۔۔۔راکھ میں بدل ڈالا 

ذہن و دِل کا ہرجذبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے خاک کرڈالا۔ 

ایسی سرزمینوں پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 بارشیں برسنے سے ۔۔۔۔۔۔۔ فرق کچھ نہیں پڑتا  

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...